ذوقِ جمال
1

ہفتِ ارض و سما کرتے ہیں بیان آپؐ کا صبح و مسا جانا

ہر بر بار میں آتی ہیں آپؐ کی اور آپؐ کا ہے چرچا جانا

2

پہنچو گی اُن کے در پر خوشیوں سے وہ دامَن بھر لایا

وہ پیاس بجھاتے ہیں دِل کی، رحمت ہیں جو دریا جانا

3

وہ خالِقِ کے، خَلق اُن کا، ماپیں اُن کے کچھ نہیں

ہم ذِکر کریں کیا قربت کا، فرمان ہے او ادنیٰ جانا

4

خاکِ آپؐ کے در کی نورانی، اور ذاتِ مقدّس لازیاتی⚠️

اَنوارِ اَزَل کا پَیکر ہیں سر سے لے کر تا پا جانا

5

اللہ کی ہے اِس رنگِ نظری، ہے شامِ فِدا⚠️ شامِ قُربانِ⚠️ خُدا

انسان و ملائک جن و پری ہیں آپؐ کے سب شیدا جانا

6

سارا جو زمانہ پھر آئے، اُن سیّاحوں کی ہیں راہیں

مشفق نہیں آپؐ ایسا کوئی مؤنس⚠️ نہیں ساؔجِد نہیں آپؐ کا جانا

7

اللہ کا سُو شکرگزروں، میں ساؔجِد اُن کے در کا رہوں

کچھ خوف نہیں رَہبَر کے نہ رہنے پر، جب میرا ہے سرا جانا