ذوقِ جمال

ہفتِ ارض و سما کرتے ہیں بیان آپؐ کا صبح و مسا جانا

ہر بر بار میں آتی ہیں آپؐ کی اور آپؐ کا ہے چرچا جانا

پہنچو گی اُن کے در پر خوشیوں سے وہ دامَن بھر لایا

وہ پیاس بجھاتے ہیں دِل کی، رحمت ہیں جو دریا جانا

وہ خالِقِ کے، خَلق اُن کا، ماپیں اُن کے کچھ نہیں

ہم ذِکر کریں کیا قربت کا، فرمان ہے او ادنیٰ جانا

خاکِ آپؐ کے در کی نورانی، اور ذاتِ مقدّس لازیاتی⚠️

اَنوارِ اَزَل کا پَیکر ہیں سر سے لے کر تا پا جانا

اللہ کی ہے اِس رنگِ نظری، ہے شامِ فِدا⚠️ شامِ قُربانِ⚠️ خُدا

انسان و ملائک جن و پری ہیں آپؐ کے سب شیدا جانا

سارا جو زمانہ پھر آئے، اُن سیّاحوں کی ہیں راہیں

مشفق نہیں آپؐ ایسا کوئی مؤنس⚠️ نہیں ساجدؔ نہیں آپؐ کا جانا

اللہ کا سُو شکرگزروں، میں ساجد اُن کے در کا رہوں

کچھ خوف نہیں رَہبَر کے نہ رہنے پر، جب میرا ہے سرا جانا