ذوقِ جمال

سیّدِ کونین کی ہیں جلوہ پَیکر ایڑیاں

یوں گُل کُل تر بھی نہیں، ⚠️ بھی معطّر⚠️ ایڑیاں

بلاشکی میں ہے بے مِثال اکبرِ ایڑیاں

حسنِ خوبی کا ہے کیا ہی خوب مظہر ایڑیاں

آپؐ کا دم ہے جہاں، جِسم میں جیسے ہے جاں

سر پر جیسے تاجِ یوں عرش پر پیر ایڑیاں

بیٹھتے ہیں آپؐ کی محفِل میں تابندہ نصیب

چھوتے ہیں با ادب جبرئیلِ⚠️ اَنُور ایڑیاں

کہتے ہیں دیکھ فلَک نے اپنے داماں فلَک⚠️

آج تک اِس نے نہ دیکھیں یوں مُنوّر ایڑیاں

ایڑیاں محبوبِ حق کی، لامَکاں میں بھی گئیں

خُوش نصیبوں ہی نے دیکھیں زوح⚠️ پرور ایڑیاں

واپسی کا اب خِیال آئے، نہیں ساجدؔ نہیں

میں تو پہنچا ہوں مدینے میں رگڑ کر ایڑیاں