ذوقِ جمال
1

سیّدِ کونین کی ہیں جلوہ پَیکر ایڑیاں

یوں گُل کُل تر بھی نہیں، ⚠️ بھی معطّر⚠️ ایڑیاں

2

بلاشکی میں ہے بے مِثال اکبرِ ایڑیاں

حسنِ خوبی کا ہے کیا ہی خوب مظہر ایڑیاں

3

آپؐ کا دم ہے جہاں، جِسم میں جیسے ہے جاں

سر پر جیسے تاجِ یوں عرش پر پیر ایڑیاں

4

بیٹھتے ہیں آپؐ کی محفِل میں تابندہ نصیب

چھوتے ہیں با ادب جبرئیلِ⚠️ اَنُور ایڑیاں

5

کہتے ہیں دیکھ فلَک نے اپنے داماں فلَک⚠️

آج تک اِس نے نہ دیکھیں یوں مُنوّر ایڑیاں

6

ایڑیاں محبوبِ حق کی، لامَکاں میں بھی گئیں

خُوش نصیبوں ہی نے دیکھیں زوح⚠️ پرور ایڑیاں

7

واپسی کا اب خِیال آئے، نہیں ساؔجِد نہیں

میں تو پہنچا ہوں مدینے میں رگڑ کر ایڑیاں