شوقِ فراواں
1

فیضِ سُلطاں ہے رواں دِن رات دریا کی طرح

پڑ⚠️ میں قُدسی آپ کا وزِ⚠️ عرشِ اعلیٰ کی طرح

2

عالَمِ ایجاد میں ہیں آپ ہی اپنی مِثال

کوئی پیغمبر نہیں ہے شاہِ والا کی طرح

3

مُونِسِ آشفتہ حالاں اور کوئی کب ہوا؟

رحمت لِلعالَمین جانِ تمنّا کی طرح

4

آگے پیچھے دیکھتے ہیں اِک نظر میں شاہِ دیں

ہے سراپا آپ کا اِک چشمِ بینا کی طرح

5

شب بھر ہوتی ہے اِس جا دِن گزرتا ہے وہاں

رات دِن گنتے ہیں اپنے دشت پیما⚠️ کی طرح

6

کوئی بھی اُن کی طرح ہرگِز نہیں آفاق میں

جس طرح کوئی نہیں ہے حق تعالیٰ کی طرح

7

رنگِ رو⚠️ جدّہ سے تا شہرِ نبی ہے تابناک

ساؔجِد اُس کا ذرّہ ذرّہ طُورِ سینا کی طرح