شوقِ فراواں

فیضِ سُلطاں ہے رواں دِن رات دریا کی طرح

پڑ⚠️ میں قُدسی آپ کا وزِ⚠️ عرشِ اعلیٰ کی طرح

عالَمِ ایجاد میں ہیں آپ ہی اپنی مِثال

کوئی پیغمبر نہیں ہے شاہِ والا کی طرح

مُونِسِ آشفتہ حالاں اور کوئی کب ہوا؟

رحمت لِلعالَمین جانِ تمنّا کی طرح

آگے پیچھے دیکھتے ہیں اِک نظر میں شاہِ دیں

ہے سراپا آپ کا اِک چشمِ بینا کی طرح

شب بھر ہوتی ہے اِس جا دِن گزرتا ہے وہاں

رات دِن گنتے ہیں اپنے دشت پیما⚠️ کی طرح

کوئی بھی اُن کی طرح ہرگِز نہیں آفاق میں

جس طرح کوئی نہیں ہے حق تعالیٰ کی طرح

رنگِ رو⚠️ جدّہ سے تا شہرِ نبی ہے تابناک

ساجدؔ اُس کا ذرّہ ذرّہ طُورِ سینا کی طرح