شوقِ فراواں
1

جب وہ رؤیا میں نہیں آتے تو گھبراتی ہے روح

لگتا ہے یوں جِسم سے میرے اُڑی جاتی ہے روح

2

سکتے چھا جاتا ہے دِل میں اُن کی یادوں کے بغیر

جب شہِ دیں کا خِیال آتا ہے لوٹ آتی ہے روح

3

یہ ہے سب فیضانِ محبوبِ خُدا کے لُطف کا

کیا عجب دِلکش مناظرِ دِل کو دکھلاتی ہے روح

4

جان کو کرتی ہے روشن اُن کی رحمت کی ضِیا

خود چمک جائے پھرے کو بھی چمکاتی ہے روح

5

اُن کے ابرِ لُطف سے کھلتا ہے باغِ آرزو

صورتِ فصلِ بہاراں خوب لہراتی ہے روح

6

جلتے ملتے⚠️ ہیں بصیرت اور وِجدان کے چِراغ

گوش و دیدہ پر نہایت لُطف فرماتی ہے روح

7

دِل میں ساؔجِد جب اُتر جاتی ہے کف⚠️ مُصطفٰؐے

سرخوشی سے نعتِ سُلطاں جہاں گاتی ہے روح