← شوقِ فراواں
جب وہ رؤیا میں نہیں آتے تو گھبراتی ہے روح
لگتا ہے یوں جِسم سے میرے اُڑی جاتی ہے روح
سکتے چھا جاتا ہے دِل میں اُن کی یادوں کے بغیر
جب شہِ دیں کا خِیال آتا ہے لوٹ آتی ہے روح
یہ ہے سب فیضانِ محبوبِ خُدا کے لُطف کا
کیا عجب دِلکش مناظرِ دِل کو دکھلاتی ہے روح
جان کو کرتی ہے روشن اُن کی رحمت کی ضِیا
خود چمک جائے پھرے کو بھی چمکاتی ہے روح
اُن کے ابرِ لُطف سے کھلتا ہے باغِ آرزو
صورتِ فصلِ بہاراں خوب لہراتی ہے روح
جلتے ملتے⚠️ ہیں بصیرت اور وِجدان کے چِراغ
گوش و دیدہ پر نہایت لُطف فرماتی ہے روح
دِل میں ساجدؔ جب اُتر جاتی ہے کف⚠️ مصطفیٰ
سرخوشی سے نعتِ سُلطاں جہاں گاتی ہے روح