← شوقِ فراواں
احَد ہے کوہِ عجب مُسَلسَلِ نُور کی شاخ
مٹھیل⚠️ اِس سے ہوئی روشنی طُور کی شاخ
کوئی بھی بات نہیں دسّت⚠️ نبی کو مشکل
شاہ گر چاہیں تو کچھ دُور نہیں دُور کی شاخ
سخت مؤذی ہے مرضِ حرص و عناد اور نفاق
جان و دِل کے لیے لاریب ہے ناسور کی شاخ
خاکِ درِ سیّدِ عالَم کی ہے اِکسیرِ حیات
اُن کی ہلکی⚠️ سی نظر مریمِ کافور کی شاخ
جو بھی دِل ذِکرِ شہِ دیں سے ہے کمر⚠️ خالی
یوں وہ تاریک ہے جیسے شبِ دیجور کی شاخ
گُل مِرے کان میں آواز اچانک آئی
رایگاں توڑی گئی گردنِ منصور کی شاخ
غوثِ اعظم ہے تحقیقی⚠️ حقیقت ساجدؔ
گولڑہ میں بھی ضِیا بار ہے اُس نُور کی شاخ