← شوقِ فراواں
دِل کو شاداب مدینے کی ہوا نے رکھا
زیرِ دامانِ کرمِ شاہؐ بُدی⚠️ نے رکھا
جب گَراں بار الَم سے میری حالت تھی زَبُوں
آپؐ کے نقشِ کف پا کو سرہانے رکھا
میرے آقاؐ کا ہے بلکہ سا یہ فیضانِ نظر
عمر بھر شادِ مجھے فضلِ خُدا نے رکھا
کیا تھا اُن کا کہ اُسے پاس وہ اپنے رکھتے
آپؐ اپنے کو بھی کب اہلِ پل⚠️ نے رکھا
ہے یہاں پر یہ سبھی سایہ رحمت کا اثر
تاجِ شاہی کا کہاں سر پہ ہمانے رکھا
آج یہ غارِ زیارت گاہِ عالَم ہے نبیؐ
آپؐ کا نُور پیچھا کر ہے حرا نے رکھا
زِندگی گزری درِ مہرِ علیؒ پر ساجدؔ
اپنا دربان مجھے آلِ عبا⚠️ نے رکھا