شوقِ فراواں
1

دِل کو شاداب مدینے کی ہوا نے رکھا

زیرِ دامانِ کرمِ شاہؐ بُدی⚠️ نے رکھا

2

جب گَراں بار الَم سے میری حالت تھی زَبُوں

آپؐ کے نقشِ کف پا کو سرہانے رکھا

3

میرے آقاؐ کا ہے بلکہ سا یہ فیضانِ نظر

عمر بھر شادِ مجھے فضلِ خُدا نے رکھا

4

کیا تھا اُن کا کہ اُسے پاس وہ اپنے رکھتے

آپؐ اپنے کو بھی کب اہلِ پل⚠️ نے رکھا

5

ہے یہاں پر یہ سبھی سایہ رحمت کا اثر

تاجِ شاہی کا کہاں سر پہ ہمانے رکھا

6

آج یہ غارِ زیارت گاہِ عالَم ہے نبیؐ

آپؐ کا نُور پیچھا کر ہے حرا نے رکھا

7

زِندگی گزری درِ مہرِ علیؒ پر ساؔجِد

اپنا دربان مجھے آلِ عبا⚠️ نے رکھا