شوقِ فراواں
1

کوئی آفاق میں احمدؐ سا پیغمبر نہ ہوا

اُنؐ کا ہم پایہ و ہم رُتبہ و ہم سر نہ ہوا

2

ہیں نبیؐ نفسِ تمام تمام مساوی سارے

کوئی احمدؐ کے فضائل میں برابر نہ ہوا

3

جو رہا دورِ نبیؐ سے ہے وہ تاریک نصیب

جو نہ رہ اُنؐ کی چلا وہ بھی سمجھا جاں بر نہ ہوا

4

محوِ اَنوارِ رِسالت کا جو غواصِ نہیں

محوِ عِرفانِ حقیقت کا شناور نہ ہوا

5

سرمہ چشم نہیں جس کا در شاہِؐ کی خاک

دیدہ ور ہو یہ بھی کبھی اُس کا مُقدّر نہ ہوا

6

جس کو اِدراک حقیقتِ شاہِؐ عالَم کا نہیں

اُس کے لب پر بھی کبھی عِرفانِ ساغَر نہ ہوا

7

خُتم ہو یا کہ خُوشی⚠️ حال ہو جیسا ساؔجِد

وہ ہے مومن بھی کبھی جاتے جو باہر نہ ہوا