شوقِ فراواں

کوئی آفاق میں احمدؐ سا پیغمبر نہ ہوا

اُنؐ کا ہم پایہ و ہم رُتبہ و ہم سر نہ ہوا

ہیں نبیؐ نفسِ تمام تمام مساوی سارے

کوئی احمدؐ کے فضائل میں برابر نہ ہوا

جو رہا دورِ نبیؐ سے ہے وہ تاریک نصیب

جو نہ رہ اُنؐ کی چلا وہ بھی سمجھا جاں بر نہ ہوا

محوِ اَنوارِ رِسالت کا جو غواصِ نہیں

محوِ عِرفانِ حقیقت کا شناور نہ ہوا

سرمہ چشم نہیں جس کا در شاہِؐ کی خاک

دیدہ ور ہو یہ بھی کبھی اُس کا مُقدّر نہ ہوا

جس کو اِدراک حقیقتِ شاہِؐ عالَم کا نہیں

اُس کے لب پر بھی کبھی عِرفانِ ساغَر نہ ہوا

خُتم ہو یا کہ خُوشی⚠️ حال ہو جیسا ساجدؔ

وہ ہے مومن بھی کبھی جاتے جو باہر نہ ہوا