شوقِ فراواں
1

وِلائے سیّدِ عالَمؐ سے عہدِ قلب و جاں باندھا

حِصارِ لُطفِ میرے رُبرو⚠️ حق نے جاوِداں باندھا

2

ابی⚠️ برزخِ اَلٰی کے آئینے کے سامنے آتا

یہ رشتہ میں نے اپنے اور حق کے درمیاں باندھا

3

مِری سرکارؐ کی اِک جنبشِ ابرو نے وہ کھولا

جو عُقدہ تختِ تر گردش⚠️ نے تھا اے دوستاں باندھا

4

میں لے جاؤں گا پَیامِ نبیؐ مشرق سے مغرب تک

گفتن سرے سے اپنے میں نے حق کا تَرجُماں باندھا

5

ہوا معلوم جب کچھ نہیں عالَم میں غیر از نُور

ذمت سے بتوفیقِ⚠️ خُدا ہم نے دہاں باندھا

6

جَے⚠️ بھی دیکھتا ہوں وہ توگری⚠️ اپنی نظر آئے

خُدا نے ہے بَسبِ⚠️ کی گِرہ میں یہ گُماں باندھا

7

بغیرِ شوقِ فَراواں اور سامانِ مجھے کچھ نہیں

تیرے ساؔجِد نے یہ زادِ سفرِ ربِّ جہاں باندھا