شوقِ فراواں
1

بے عِشق زِندگی بھی شبِ غم سے کم نہیں

یہ رہگزار⚠️ جادہ پُرخم سے کم نہیں

2

جس کی زُباں پہ آیا نہیں نامِ مصطفٰےؐ

کیونکر وہ شخص لاشہ⚠️ دَم سے کم نہیں

3

رُخ سے اگر عَیاں نہیں ایمان کی بہار

رنگ اس کا گیا کیا خزاں کے بھی موسم سے کم نہیں

4

دامَنِ رسُولؐ تھامے کر حاصل ہوا جو تاں

اُس نازِ تاں کا⚠️ یہ لقمہ کہاں تم سے کم نہیں

5

مُحسن کے دِل کو توڑ کر حاصل ہے جو خُوشی

ایسی خُوشی جہاں میں ہے ماتم سے کم نہیں

6

سجدے کی آرزو ہو تو خواہشِ درود کی

ایکی⚠️ حیات موت کے عالَم سے کم نہیں

7

ساؔجِد ہو جس میں نہ کوئی سر نہ کوئی سوز

کیونکر صدا یہ نالہ پُرغم سے کم نہیں