شوقِ فراواں
1

شُکرِ خُدا جہاں کا ہمیں کوئی غم نہیں

ہم پر کرمِ نبیؐ کا ذرا بھی تو کم نہیں

2

ہے بعد عمرِ گزر کوئی بیش و کم نہیں

بریدِ⚠️ کے سرِ زیر میں کیا کیا اُس میں ہم نہیں

3

پَیامِ رسُولؐ سے دِل کا ہے مست ہے

ہاتھوں میں اہلِ دِل کے بھی جامِ ہم⚠️ نہیں

4

اِک چشمِ اِلتِفات ادھر بھی مِرے حضورؐ!

آٹھنے⚠️ کا حوصلہ نہیں سانسوں میں دم نہیں

5

حاشا! وہ زِندگی نہیں لاریبِ⚠️ موت ہے

دِل میں اگر ولا نہیں آنکھوں میں نم نہیں

6

جس پر ریا میں ہے سراسر فریب ہے

قدم نہیں ہے پاک جو کیونکر وہ کم نہیں

7

ساؔجِد زُباں وہ کیا زُباں جس پر نہیں درود

آہوئے⚠️ دِل وہ کیا ہوا جو گرمِ غم نہیں