شوقِ فراواں

سنگِ طَیَّبہ سے یہ لعل یعنی خوب نہیں

باد یثرب سے ہوائے چنی⚠️ خوب نہیں

غیر از یادِ نبیؐ خاک ہیں خُوشیاں ساری

غیر از یادِ خُدا چھاؤں چھپی⚠️ خوب نہیں

پھر تو ممکِن ہی نہیں بات ہے قِسِمت کی

نِسبتِ شاہِ نبیؐ گر بات بنی خوب نہیں

وصفِ محبوبِ اَلٰی کا بیالوا⚠️ خوب کریں

مجلس کے بولیں کہ یہاں گم تھنی⚠️ خوب نہیں

میری سرکارؐ مدد کرتے ہیں ناداروں کی

غم کے مارے کے دِل شکنی⚠️ خوب نہیں

گر نہیں داغ محبت تیرے دِل کا روشن

ہو تیرے پاس جو ہیرے کی کنی⚠️ خوب نہیں

ساجدؔ اب اپنے وطن کے لیے باندھیں سامان

عبید⚠️ پیری میں غریب الولنی⚠️ خوب نہیں