شوقِ فراواں
1

کیے بیاں ہو شانِ فضیلت بتول کی

سب ذختروں سے لاڈلی دختر رسُولؐ کی

2

یوں تو ہر ایک گُل پہ ہے نعمت کا پُر بہار

اعلیٰ ہے شانِ ختمِ نُبُوت کے پھول کی

3

اِکسیر اُس کے سامنے ہے قدر ہے بے قدری

عالی بہت ہے شانِ مدینے کی دُھول کی

4

چاہیں اگر حضورؐ سے میں ہوں کلام ہو

کچھ بات ہی نہیں ہے مسافت کے فاصل⚠️ کی

5

سچ ہے کہ صورتا ہیں یہ دونوں شہر⚠️ مگر

زیتون کے آگے ہے بھلا کیا بول⚠️ کی

6

راہِ خُدا میں سر کیا قُرباں حسینؓ نے

ہر ضربتِ شمع سُنج⚠️ دِل سے قبول کی

7

ساؔجِد نبیؐ کو پہیئے⚠️ تخت درود کے

مانی ہوئی ہے یہ دوا طبعِ ملول کی