← شوقِ فراواں
کیے بیاں ہو شانِ فضیلت بتول کی
سب ذختروں سے لاڈلی دختر رسُولؐ کی
یوں تو ہر ایک گُل پہ ہے نعمت کا پُر بہار
اعلیٰ ہے شانِ ختمِ نُبُوت کے پھول کی
اِکسیر اُس کے سامنے ہے قدر ہے بے قدری
عالی بہت ہے شانِ مدینے کی دُھول کی
چاہیں اگر حضورؐ سے میں ہوں کلام ہو
کچھ بات ہی نہیں ہے مسافت کے فاصل⚠️ کی
سچ ہے کہ صورتا ہیں یہ دونوں شہر⚠️ مگر
زیتون کے آگے ہے بھلا کیا بول⚠️ کی
راہِ خُدا میں سر کیا قُرباں حسینؓ نے
ہر ضربتِ شمع سُنج⚠️ دِل سے قبول کی
ساجدؔ نبیؐ کو پہیئے⚠️ تخت درود کے
مانی ہوئی ہے یہ دوا طبعِ ملول کی