شوقِ فراواں
1

سُلطان ہیں کہڑے یہاں حضرتؐ کے سامنے

پھیلائے ہاتھ بھرِ ہر محبتِ کے سامنے

2

باندھے ہوئے ادب سے کھڑے مرسلین ہیں

محبوبِ حق اِمامِ رِسالت کے سامنے

3

اندھے سے تھے نہ یولہب⚠️ کی طرح انہیں طرح انہیں

حق کے نبیؐ جمالِ حقیقت کے سامنے

4

ہوتا مبادلہ کہاں اسقف میں تاب تھی

اُن پیکرانِ فضل و شرافت کے سامنے

5

عاجز تھا نامراد ریسِ المنافقین

سُلطانِ⚠️ راضی⚠️ و صداقت کے سامنے

6

اعلان در گزر کا ہوا فتحِ مکّہ پر

ششدر تھے لوگ اُن کی عِنایَت کے سامنے

7

ساؔجِد نہیں پسند مجھے قُرب تاجور

حضرتِؐ شہِ جہاں کی عقیقت کے سامنے