← شوقِ فراواں
ذِکرِ احمدؐ میں یہ سے رات گزر جائے گی
شہدیِ⚠️ گردشِ حالات گزر جائے گی
آپؐ جب لُطف و نَوازِش سے ادھر دیکھیں گے
اشک حُزنیں⚠️ کی یہ برسات گزر جائے گی
دِل کی نظروں کو تھما رکھیں زمیں نبیؐ کے ذر پر
پل کے بل سارے مصیبتِ آفات گزر جائے گی
چھوڑ کر مال و منال اگلے جہاں جائیں گے
نقشِ رہ جائیں گے بار ہاتِ⚠️ جائے گی
یہ مدینے کی فنا یونہی رہے گی پُر نُور
اپنی ہی زِندگی حیثیات⚠️ گزر جائے گی
خیر کے نُور سے عالَم یہ فُرُوزَاں ہو گا
نقدِ و شر سے بھری رات گزر جائے گی
فردِ اَعمال کو کر روشن گئے ساجدؔ
گو شبِ نعت و مناجات گزر جائے گی