شوقِ فراواں

دیکھتے آیاتِ حق طَیَّبہ⚠️ زائر چلے

ہم مدینے اور مکّہ پھر چلے

ہو گیا ہم کو عطا اذنِ حضور

تیز اُڑ کر صورتِ طائر چلے

ہاتھ خالی آئے تھے اُن کے قریب

بھر کے داماں با ابِ شاکر چلے

شُکرِ حق روشن ہوئی شمعِ مراد

گھر کو ہم با خاطِرِ عاطر⚠️ چلے

خواجہِ دوراں! نِگاہِ لُطف ہو

انتہائی طوفانِ غم میں گھر چلے

وقتِ رخصت آ گیا باشیم⚠️ ہو

اُن کے در سے اُٹھ کے بالآخر چلے

ساجدؔ اُن کے لُطف نے تھاما ہمیں

ورنہ ہم اس راستے میں گِر⚠️ چلے