← اُن کی یاد اُن کا خیال
1
ایک ایک کر کے ہیں نکلے مِرے ارمان بہت
نیکیاں اُن کی بہت اور ہیں اِحسان بہت
2
عاقبت اُن کی نظر ہو تو کوئی خوف نہیں
عِزّتِ زِیست میں گو غم کے ہیں طوفان بہت
3
اس حسین شہرِ نبیؐ کی نسیم کہاں ہے خُوشبو
اس جہاں میں ہیں اگرچہ چمنستان بہت
4
یاد آتے ہیں مدینے کے شب و روز مجھے
آج کل رکھتے ہیں بے چین دِل و جان بہت
5
ہر گھڑی اُس کی رگ و پے میں ہے فرواں ہے سرُور
جس کو ہوتا ہے عطا شاہ کا عِرفان بہت
6
سامنے کثرتِ جَلوے کے زُباں گنگ ہوئی
دِل ہے مبہوت بہت آنکھ ہے حیران بہت
7
لب پہ ساؔجِد مِرے بے ساختہ آتا ہے درود
غم سے جب ہوتا ہے دِل میرا پریشان بہت