اُن کی یاد اُن کا خیال

صلِّ علیٰ، تَصوُّر ہے صبح و شام اُن کا

دِل میں ہے یادِ اُن کی، لب پر ہے نام اُن کا

آفاق میں ہے چرچا اس جلوۂ بدنی کا

ہر گوشۂ چَمن میں پہنچا پَیام اُن کا

شام و سحر کھڑے ہیں قُدسی درِ نبیؐ پر

آباد محنتی اُن کا روشن ہے بام اُن کا ⚠️

اُنس و ملائک ہیں دم سے مشرّف اُن کے

کرتے ہیں حُور و غِلماں سب احترام اُن کا

سجدہ گُزار اُن کے اشجار ہیں ادب سے

لب پر ہے پتھروں کے دِلکش کلام اُن کا

ہے کامیاب، اُن کا جو بھی ہے نام لیوا

ہے شاد کام و شاداں ہر اِک غلام اُن کا

یا رب! درود لب پر ساجدؔ کے رات دِن ہو

اس کی زبان پر ہو اکثر سلام اُن کا