اُن کی یاد اُن کا خیال

ہے شام و سحر گُنبدِ خضریؓ مِرے آگے

دائم رہے یہ منظَرِ زیبا مِرے آگے

رَہبَر ہے مِرا نُورِ خُدا کا مِرے آگے

ہے خواب یہ دُنیا کا تماشا مِرے آگے

سوبار مروں گا میں محبت میں نبیؐ کی

کیا غم ہے مجھے جب ہے مسیحا مِرے آگے

پَیکر ہے وہ سرچشمۂ فیضانِ اِلٰہی

ہر دم ہے رواں نُور کا دریا مِرے آگے

بس ایک تمنّا ہے فقَط ایک تمنّا

ہو جلوہ فِشاں اُن کا سراپا مِرے آگے

تخلیق کی ہے نُورِ نبیؐ علّتِ غائی

ہر چیز ہے عالَم کی دِل اَفِزا مِرے آگے

فیضان ہے ساجدؔ یہ درود اور ثَنا کا

کچھ بھی تو نہیں ہے غمِ دُنیا مِرے آگے