اُن کی یاد اُن کا خیال
1

یہ آنکھ فقَط رؤیتِ سُلطاں کے لئے ہے

یہ دامَنِ دِل دولتِ ایماں کے لئے ہے

2

ذِکرِ اُن کا ہے لاریب عِلاجِ دِلِ بیمار

نامِ اُن کا دوا، رنج و غمِ جاں کے لئے ہے

3

کثرت سے درود اُن پہ ہے سرمایۂ خُوشی کا

سب روشنی یہ صبحِ بہاراں کے لئے ہے

4

اُن کے رُخِ تاباں سے مہ و مہر ہیں روشن

مُشکِ اُن کے عرق کی گُل و ریحاں کے لئے ہے

5

اُن تلکوں کی سُرخی سے شفقِ زار کی رنگت

آستاں کی تابش دُرِّ مرجاں کے لئے ہے

6

رحمت کا خزینہ ہے فرشتوں کے لئے وہ

گنجینۂ فیضان اگر انساں کے لئے ہے

7

ساؔجِد ہے نصابِ اُن کا جداگانہ سراسر

یہ لوحِ فقَط اُن کے دبستاں کے لئے ہے