اُن کی یاد اُن کا خیال
1

ہو گا مِرے گھر میں قدم اور زیادہ

برسے گا ابھی اور کرم اور زیادہ

2

وراں ہے ابھی کشتیِ تمنّا مِرے دِل کی

آنکھوں میں ابھی چاہیے نم اور زیادہ

3

پڑھتا ہوں درود اُن پہ تَصوُّر لئے اُن کا

یوں آتا ہے دم میں مِرے دم اور زیادہ

4

رنج پھیرتے ہیں مجھ سے جہاں والے یہ جنتا ⚠️

کھنچتا ہے یہ دِل سُوئے حرم اور زیادہ

5

تنہائی میں یادِ اُن کی مزا دیتی ہے کچھ اور

خُوش ہوتے ہیں اس حال میں ہم اور زیادہ

6

خالِق کے خزانے کے ہیں قائم شہِ والا

ملتا ہے جو مانگے کوئی کم اور زیادہ

7

ساؔجِد نہیں گرچہ عِنایات کا در بند

وا اُس پہ ثناؤِ اُمم اور زیادہ ⚠️