← کتابیں
اُن کی یاد اُن کا خیال
94 کلام
۱تُو خالِقِ مُطلِق ہے جلوہ ہے عَیاں تیرا۲سُوئے حق رہنما درود شریف۳بقولِ من رآنی ہے عَیاں ہم پر ہُوا واللہ۴نُورِ خُدا ہے مصطفیٰ صلِّ علیٰ محمدؐؐ۵شام و سحر میٹھی جو شادمانیاں ہیں۶اُن کی پہچان اگر ہو جائے۷جلوۂ ذاتِ احَد کی میں وہ صورت دیکھوں۸غیر کا جب بھی ستم یاد آیا۹زیادہ ہو اُن سے محبت زیادہ۱۰اُن کے جمال و حُسن کی جب گفتگو کریں۱۱شاہ کے نام کا جواب نہیں۱۲مِرے جان و دِل ہیں فدائے مدینہ۱۳دِل میں اِک اُن کی محبت چاہیے۱۴وہ حسین شہرہ وہ جمال کہاں۱۵مرکز میں اِلتِفاتِ خُدا کا مِرے حضور۱۶شہرِ بَطحا کا ہے پُر کیف سماں، شام و سحر۱۷"ہوگئی اُن سے محبت ہوگئی"۱۸دِل میں نجومِ کیف و مسرّت ہے اِن دنوں۱۹دلنگیر اپنا نُور خُدا ہوگیا۲۰میری زبان پر ہوں دِن رات نام اُن کا۲۱مدینے میں ہیں بے کسوں کی پناہیں۲۲دِل میں اُن کی یاد، لب پر نام ہے۲۳ہمیں جان و دِل سے ہے پیارا وہ پیارا۲۴سمجھے جس کو آئے مَقامِ مدینہ۲۵دِل سے جو غلامِ شاہ ابرار نہیں ہے۲۶دِن رات یادِ اُن کی، انہی کا خِیال ہے۲۷جب مجھے اُن کا گریہ ⚠️ یاد آیا۲۸سب کچھ بھُلا کے اُن کی تمنّا کیا کروں۲۹سرُورِ دِل و جاں بہارِ مدینہ۳۰دِل مِرا شام و سحر اُن کی لگن میں مست ہے۳۱مجھ پر نِگاہِ اُن کی برنگِ دگر ہے آج۳۲یادِ اُن کی اثر ہے سینے میں۳۳نُورِ جمال نے مِرا دِل جھنجھوڑ دیا ⚠️۳۴نہیں میرے ہی آسرا جاناں۳۵پکارا جب بھی ہے شاہِ شہیداں کو۳۶ہے پیمانہ نہ پختخانہ مگر معمور رہتے ہیں ⚠️۳۷تَصوُّر کی مشعل جلا کر تو دیکھو۳۸کیا شان ہے شانِ رسُولِ خُدا سُبحان اللہ سُبحان اللہ۳۹حق کا ظاہر ہے دست و پائے رسُولؐ۴۰صورت اس درجہ اُن کی پیاری ہے۴۱ہم آفتاب کو گُلِ قمر کو دیکھتے ہیں ⚠️۴۲احَد کا جب مجھے کہسار نظر آتا ہے۴۳ہو گا مِرے گھر میں قدم اور زیادہ۴۴یہ آنکھ فقَط رؤیتِ سُلطاں کے لئے ہے۴۵ہے شام و سحر گُنبدِ خضریؓ مِرے آگے۴۶صلِّ علیٰ، تَصوُّر ہے صبح و شام اُن کا۴۷ایک ایک کر کے ہیں نکلے مِرے ارمان بہت۴۸گُنبدِ وہ سبز رنگ وہ محراب و در کہاں۴۹سارے عالَم کے ہیں سُلطان رسُولِ عربی۵۰نامِ پاکِ اُن کا لیا، چارۂ آزار کیا۵۱پرتوِ اسمِ خُداوندِ بشر کی صورت۵۲اُن کے لُطف و کرم کی بات کریں۵۳مدینے کا ہے جان پرور اُجالا۵۴سرخوشی اس درجہ فوز و کامرانی اس قدر۵۵لب پہ نام اُن کا مِرے ہر دم رہے۵۶خُدا نے خَلق پر کھولا ہے یوں رحمت کی معدن کو۵۷بشر کا اوڑھے ہوئے دِلنشیں نِقاب آیا۵۸دِل میں خِیالِ سیّدِ لولاک جب رہے۵۹حقیقت میں وہی خُوش بخت شانِ مصطفیٰ سمجھے۶۰مہ و مہر کی روشنی ہے انہی سے۶۱اُن کی یاد اچھی ہے اور اُن کا خِیال اچھا ہے۶۲جب بھی غم و آلام کی شدّت نظر آئی۶۳عمر جو اُن کے تَصوُّر میں بسر کرتے ہیں۶۴کمالِ حُسن دیا، بے بہا جمال دیا۶۵جان کرتے ہیں فِدا شاہ پہ⚠️ قِسِمت والے۶۶خُدا کے حُسن کا جب سامنے سراپا ہو۶۷اسمِ اعظم سے ہے روشن ہو حقیقت دیکھیں۶۸صَحرا کو لالہ زار بنائے ہوئے تو ہیں۶۹وہی کلام فصاحت کی جان ہوتا ہے۷۰جس نشست⚠️ ہو وہ چشمِ کرم، غم نہیں ہوتا۷۱شاہؐ کے اِلتِفات سے جامِ مراد بھر گیا۷۲میانِ⚠️ خَلوتِ⚠️ و حق رابطہ یوں روا رکھنا۷۳مصطفیٰ کے شہر کی آب و ہوا کچھ اور ہے۷۴عالَم کی جان، ذاتِ ستودہ⚠️ دو سرا⚠️ کی ہے۷۵دِل محو ہے جو حُسنِ نبیؐ کے خِیال میں۷۶حبیبِ حق کو اگر ہم صدا دیئے ہوتے۷۷دِل کی آبادی کا سامان اُن کی یاد اُن کا خِیال۷۸مِدحت سے ہر ایک بزم کو مہکائیں گے ہم لوگ۷۹غمِ رسُولؐ سے بڑھ کر کوئی خُوشی ہی نہیں۸۰بھلا کر اُن کو میں زِندہ رہوں یہ ہو نہیں سکتا۸۱کونین میں اُن سا کوئی دلدار نہیں ہے۸۲جو شام و سحر اُن کو نہیں یاد کریں گے۸۳گرچہ وہ بوریا نشیں ہو گا۸۴تنہائیوں میں اُن کا کرم دستگیر ہے۸۵جب کرم ہوتا ہے تقدیر بدل جاتی ہے۸۶مُحیطِ سارے جہاں پر ہے خواجگی⚠️ اُن کی۸۷حق نے بخشا ہے انہیں حُسنِ شمائل کیا کیا۸۸آبِ رحمت کا نوشِ⚠️ جام کریں۸۹بُلند عرش بَریں سے ہے آستانِ نبیؐ۹۰یہ اِلتِفاتِ نظر ہے فقَط نصیب کی بات۹۱ہماری سِمت⚠️ کہاں جام بھی نہیں آتا۹۲شُکر خُدا، خُدا نے مقدّر دکھا⚠️ دیا۹۳رحمت سے رہے دِل کا یہ پیوند ہمیشہ۹۴السلام