اُن کی یاد اُن کا خیال
1

اُن کی یاد اچھی ہے اور اُن کا خِیال اچھا ہے

دِل کا اب اُن کی عِنایات سے حال اچھا ہے

2

حُسنِ آفاق سے فائق ہے بہت حُسنِ نبیؐ

ساری رعنائیوں سے اُن کا جمال اچھا ہے

3

حق سے مانگ اُن کے وسیلے سے کہ ہو عرضِ قبول

عرض یوں اچھی ہے اور ایسا سوال اچھا ہے

4

برگ و بار اُس کے حسین اور حسن کے جَلوے

باغِ عالَم میں یہی سب سے نہال اچھا ہے

5

چاہے قُربتِ سُلطانِ مدینہ مجھ کو

دولتِ جم سے مجھے فقرِ بلالؓ اچھا ہے

6

اُن کا بخشا ہوا ہر درد گوارا ہے مجھے

اُن کا بخشا ہوا ہر رنج و مَلال اچھا ہے

7

سانس لیتا ہوں مدینے کی ہوا میں ساؔجِد

راتیں اچھی ہیں یہ دِن اچھے یہ سال اچھا ہے