← اُن کی یاد اُن کا خیال
اُن کی یاد اچھی ہے اور اُن کا خِیال اچھا ہے
دِل کا اب اُن کی عِنایات سے حال اچھا ہے
حُسنِ آفاق سے فائق ہے بہت حُسنِ نبیؐ
ساری رعنائیوں سے اُن کا جمال اچھا ہے
حق سے مانگ اُن کے وسیلے سے کہ ہو عرضِ قبول
عرض یوں اچھی ہے اور ایسا سوال اچھا ہے
برگ و بار اُس کے حسین اور حسن کے جَلوے
باغِ عالَم میں یہی سب سے نہال اچھا ہے
چاہے قُربتِ سُلطانِ مدینہ مجھ کو
دولتِ جم سے مجھے فقرِ بلالؓ اچھا ہے
اُن کا بخشا ہوا ہر درد گوارا ہے مجھے
اُن کا بخشا ہوا ہر رنج و مَلال اچھا ہے
سانس لیتا ہوں مدینے کی ہوا میں ساجدؔ
راتیں اچھی ہیں یہ دِن اچھے یہ سال اچھا ہے