اُن کی یاد اُن کا خیال
1

جب بھی غم و آلام کی شدّت نظر آئی

تسکیں کو مِری اُن کی عِنایَت نظر آئی

2

اِدراک نے جب جمع کیا حُسنِ دو عالَم

دِل کو میرے سرکار کی صورت نظر آئی

3

پہنچا وہ جہاں حق کے سِوا کچھ بھی نہیں ہے

اس جِسم میں اللہ کی قدرت نظر آئی

4

ہیں خاکِ نشیں تاجِ شہی پاؤں میں اُن کے

یہ اُن کے غلاموں کی علامت نظر آئی

5

فیضانِ طبیعت ہے یہ محبوبِ خُدا کا

یہ اُن پہ درودوں کی بہاروں کا شجر ہے

ہر ایک قدم پر مجھے رحمت نظر آئی

6

شاداں ہیں شب و روز مِرے اُن کے کرم سے

ہر آنکھ میں ساؔجِد مجھے اُلفت نظر آئی