← اُن کی یاد اُن کا خیال
عمر جو اُن کے تَصوُّر میں بسر کرتے ہیں
آن کی آن میں وہ شب کو سحر کرتے ہیں
کس و ناکس پہ برستا ہے عطا کا بادل
بخت بنتے ہیں وہ جس مت نظر کرتے ہیں
کوئی بھی اپنا نہیں مُونِسِ جاں اُن کے سِوا
جب بھی آفات پڑیں اُن کو خبر کرتے ہیں
وہ فُغاں سُنتے ہیں ہم اُن کو پکاریں جب بھی
اُن پہ نالے دِلِ بیتابیاں اثر کرتے ہیں
عِشق والوں کی مسرّت کا وہ عالَم، اللہ
کس خُوشی سے وہ مدینے کا سفر کرتے ہیں
اُن کے دِیدار سے کھُل اُٹھتا ہے گُلزارِ حیات
اُن کے اَنوار دِل و روح میں گھر کرتے ہیں
اپنے وِجدان کا طبعی ہے تقاضا ساجدؔ
ذِکر ہم اُن کی محبت اثر کرتے ہیں ⚠️