اُن کی یاد اُن کا خیال
1

دِن رات یادِ اُن کی، انہی کا خِیال ہے

بے شک مِرے لئے تو مُبارَک یہ سال ہے

2

پاسِ ادب حضور کا رحمت کی ہے دلیل

تُرکِ ادب عذاب و زیاں ہے، وبال ہے

3

مخلوق ہے وہ ذات کے بے مِثلِ نُور سے

صورت ہے وہ بشر کی مگر بے مِثال ہے

4

عالَم تمام آئینہ ہے اُن کے حُسن کا

خُوشبو و رنگ اُن کا یہ بے مِثل ⚠️ جمال ہے

5

تاج و گُہر کی بھینک یہ اُدنیٰ سی بات ہے

مانگ اُن سے اُن کو یہ بڑا جامع سوال ہے

6

اُن کی نَوازِشوں سے ہے جاں شادماں مِری

اُن کے کرم سے دِل کا مِرے خوب حال ہے

7

ساؔجِد میں کچھ نہیں ہوں کریم ہے کریم کا

مجھ میں کوئی ہنر ہے نہ کوئی کمال ہے