← اُن کی یاد اُن کا خیال
1
جلوۂ ذاتِ احَد کی ‘ میں وہ صورت دیکھوں
حُسن و خُوبی کا میں آئینۂ حیرت دیکھوں
2
ہوں کھڑا چشمِ نَوازِش کا اشارہ پانے
ہر برس روضئہ اَقدس کی میں رحمت دیکھوں
3
کب اُترتی ہے مِرے دِل میں نظر رحمت کی
مہرباں ہوتی ہے کب چشمِ عِنایَت دیکھوں
4
مرحبا ‘ رات مِری ‘ صبح بہاراں ہو جائے
اے خُدا ‘ میری چمک اُٹھے یہ قِسِمت دیکھوں
5
آج اس سَمت مدینے کی ہوا کا ہے گزر
آج ہر چہرے پہ میں نُورِ مُسّرت دیکھوں
6
کب مِرے سوکھے ہوئے باغ میں آئے گی بہار
رنگ کب لائے گی اُن سے مِری نِسبت دیکھوں
7
کاش ‘ کُھل جائے مِرا ظاہر و باطِن ساؔجِد
میں جدھر دیکھوں اُدھر نُورِ حقیقت دیکھوں