← اُن کی یاد اُن کا خیال
اُن کی پہچان اگر ہو جائے
ہم پہ واں باب خبر ہو جائے
مِہرباں گر وہ نظر ہو جائے
دِل مِرا رشکِ قمر ہو جائے
گر نِقاب الٹیں وہ رُخ سے اپنے
شبِ تاریک سحر ہو جائے
تاجور رشک سے دیکھیں مجھ کو
مجھ پہ گر اُن کی نظر ہو جائے
اس خزف ریزہ کی قِسِمت، اللہ
اُن سے چھُو کر جو گُہر ہو جائے
کاش، منزِل ہو مدینہ میری
کاش اس مت سفر ہو جائے
میرے دِل کی ہے تمنّا ساجدؔ
عمر اس در پہ بسر ہو جائے