اُن کی یاد اُن کا خیال

شام و سحر میٹھی جو شادمانیاں ہیں

اللہ کے نبیؐ کی یہ مہربانیاں ہیں

معنیٰ ہے ذاتِ مُطلِق قائم حبیب اس کا

ارماں ہوئے ہیں پورے خُوش زندگانیاں ہیں

آفاق میں ہیں چرچے اُن کی نَوازِشوں کے

دِن ہو کہ رات لب پر اُن کی کہانیاں ہیں

روشن ہیں رہگذاریں آباد اُن کے قُربے

کیا آب و تاب اب تک اُن کی نشانیاں ہیں

شہرِ نبیؐ میں اب بھی خُوشبو بسی ہوئی ہے

ہر کوچے ہر گلی میں عنبر فشانیاں ہیں

ماہِ صیام میں وہ افطاریوں کے منظَر

بیروں دروں حرم میں کیا میزبانیاں ہیں

فیضان ہے یہ سارا اُن نبیؐ کی نظر کا ساجدؔ

نعتِ رسُول میں جو رقیں بیانیاں ہیں ⚠️