← اُن کی یاد اُن کا خیال
1
گُنبدِ وہ سبز رنگ وہ محراب و در کہاں
وہ کیف وہ سرُور وہ شام و سحر کہاں
2
اُن کی تجلّیات سے روشن ہے کائنات
دیدِ تجلّیات کو لیکن نظر کہاں
3
اُن سا شفیق مُونِس و غمخوار کون ہے
اُن سا کریم راہنما، راہبر کہاں
4
ہر فصل میں بہار مدینے ہے جاں فِزا
رحمت کے گُلستاں پہ خزاں کا اثر کہاں
5
خود ہی وہ حق کے گوش سے دِل کا سنیں گے حال
کر سکے گی حال بیاں چشمِ تر کہاں
6
بَطحا کی وہ فضائیں، بہاریں وہ مشکبار
روشن وہ کہکشاں کی طرح رہگذر کہاں
7
ساؔجِد جدھر بھی اُٹھ گئی وہ چشمِ مِہرباں
اُس مت رنج کرے بھی برق و شرر کہاں ⚠️