← اُن کی یاد اُن کا خیال
گُنبدِ وہ سبز رنگ وہ محراب و در کہاں
وہ کیف وہ سرُور وہ شام و سحر کہاں
اُن کی تجلّیات سے روشن ہے کائنات
دیدِ تجلّیات کو لیکن نظر کہاں
اُن سا شفیق مُونِس و غمخوار کون ہے
اُن سا کریم راہنما، راہبر کہاں
ہر فصل میں بہار مدینے ہے جاں فِزا
رحمت کے گُلستاں پہ خزاں کا اثر کہاں
خود ہی وہ حق کے گوش سے دِل کا سنیں گے حال
کر سکے گی حال بیاں چشمِ تر کہاں
بَطحا کی وہ فضائیں، بہاریں وہ مشکبار
روشن وہ کہکشاں کی طرح رہگذر کہاں
ساجدؔ جدھر بھی اُٹھ گئی وہ چشمِ مِہرباں
اُس مت رنج کرے بھی برق و شرر کہاں ⚠️