اُن کی یاد اُن کا خیال
1

جو شام و سحر اُن کو نہیں یاد کریں گے

سرمایۂ عمر اپنا وہ برباد کریں گے

2

رودادِ⚠️ کرمِ تاجورِ حق کی سنا کر

ہم اوروں کو خُوش اپنے کو دلشاد کریں گے

3

پھر لائیں گے ہم گوہرِ مقصود سے دامَن

ہم جب بھی درِ شاہ پہ فریاد کریں گے

4

پیشِ اُن کے میں جب عرض کروں گا دِل و جاں کی

ایمان کی ہے بات اسے شاد⚠️ کریں گے

5

ہم مُنتَظرِ اِذنِ⚠️ زیارت کے لیے ہیں

ہم جائیں گے جس لحظ وہ اِرشاد کریں گے

6

دِل بیچ⚠️ کے سوغات بنامِ شہِ دوراں

ہم قریۂ⚠️ دیراں کو یوں آباد کریں گے

7

سُلطانِ جہاں ایک نظر سے ہمیں ساؔجِد

زندانِ غمِ دَہر سے آزاد کریں گے