اُن کی یاد اُن کا خیال
1

گرچہ وہ بوریا نشیں ہو گا

عرش سے ماورا مکیں⚠️ ہو گا

2

عِشق سے بڑھ کے کون اُن کی طرح

ذاتِ مُطلِق کا ہم نشیں ہو گا

3

اتنا ہی مِہربان ہو گا خُدا

جتنا دِل شاہ کے قَریں ہو گا

4

اُن کے لُطفِ نِگاہ سے یکسر⚠️

زہر بھی جامِ انگبیں ہو گا

5

اُن کی جو شان کا نہیں قائل

یار وہ مارِ آستیں ہو گا

6

جان افروز ہر عمل اُن کا

ہر قول دِلنشیں ہو گا

7

بھولنا حق کا بھی⚠️ ہے بھلانا انہیں

ساؔجِد ایسا کبھی نہیں ہو گا