← اُن کی یاد اُن کا خیال
سمجھے جس کو آئے مَقامِ مدینہ
وہ دِل سے کرے احترامِ مدینہ
ہے صبحِ مدینہ بڑی جاں پرور
بڑی خوب صورت ہے شامِ مدینہ
مُسَلسَل کرم، بالتواتر نَوازِش
کہاں کھولتا ہے قیامِ مدینہ
شب و روز آباد ہیں شاہراہیں
شب و روز روشن ہے بامِ مدینہ
زیارت کو آتے ہیں اُنس و ملائک
نہیں جانتا کون نامِ مدینہ
ہمیشہ وہ رہتا ہے سَرشار و بے خود
کیا نوشِ جس نے ہے جامِ مدینہ
مدینے کے باشی مکرّم ہیں ساجدؔ
ہیں سب محترم خاص و عامِ مدینہ