اُن کی یاد اُن کا خیال
1

سمجھے جس کو آئے مَقامِ مدینہ

وہ دِل سے کرے احترامِ مدینہ

2

ہے صبحِ مدینہ بڑی جاں پرور

بڑی خوب صورت ہے شامِ مدینہ

3

مُسَلسَل کرم، بالتواتر نَوازِش

کہاں کھولتا ہے قیامِ مدینہ

4

شب و روز آباد ہیں شاہراہیں

شب و روز روشن ہے بامِ مدینہ

5

زیارت کو آتے ہیں اُنس و ملائک

نہیں جانتا کون نامِ مدینہ

6

ہمیشہ وہ رہتا ہے سَرشار و بے خود

کیا نوشِ جس نے ہے جامِ مدینہ

7

مدینے کے باشی مکرّم ہیں ساؔجِد

ہیں سب محترم خاص و عامِ مدینہ