← اُن کی یاد اُن کا خیال
وہ حسین شہرہ وہ جمال کہاں
وہ شب و روز و ماہ و سال کہاں
باہمہ وصف کون ہے موصوف
ہے بِجُز اُن کے یہ کمال کہاں
شبِ تاریک کو سحر کرنا
اُن کو مشکل کہاں، محال کہاں
شکلِ انساں میں ذات کا جلوہ
اُن کی عالَم میں ہے مِثال کہاں
وہ عناصر کی دلکشا ترکیب
طبع کا اُن کی اعتدال کہاں
جس طرف مِہرباں ہوئی وہ نظر
اُس طرف رنج اور مَلال کہاں
سانس لو باادب یہاں ساجدؔ
لب کشائی کی ہے مجال کہاں