اُن کی یاد اُن کا خیال

نہیں میرے ہی آسرا جاناں

سب کی سُنتے ہیں اِلتجا جاناں

اُن سے حق کا سراغ ملتا ہے

پرتوِ ذاتِ کِبریا جاناں

سب کی نظریں جمی ہوئی اُن پر

قبلہ ہیں ذاتِ پاک کا جاناں

وہ خُدا ہیں نہ ہیں خُدا سے جُدا

رازِ حق ہیں بہت بڑا جاناں

دردِ مندوں کے غمگسار ہیں وہ

سر بسر اُلفت و عطا جاناں

وہ مِرے دِل کے حال کے محرم

ہیں مِرے درد آشنا جاناں

اُن کے دم سے ہے دم میں دم ساجدؔ

ہیں مِرے دِل کا مُدّعا جاناں