اُن کی یاد اُن کا خیال

صورت اس درجہ اُن کی پیاری ہے

آئنے کو بھی شرمساری ہے

پَیکرِ اُن کا تمام رَعنائی

سر بسر حُسنِ ذاتِ باری ہے

مُنتَظر اُن کے ہوں اشارے کا

دِل کو دِن رات بے قراری ہے

رُک گئی نبضِ کائنات مگر

سفرِ شوق اُن کا جاری ہے

ایک لحظے میں طے ہوا ⚠️ وہ سفر

نُور کو نُور کی سواری ہے

ڈور اُس نام سے یہ غم ہو گا

لیکنہ دِن سخت رات بھاری ہے ⚠️

اب تو ساجدؔ بس اُن کی نعت رہی

ہم نے یوں زِندگی گزاری ہے