اُن کی یاد اُن کا خیال

حق کا ظاہر ہے دست و پائے رسُولؐ

اور باطِن خوشا خُدائے رسُولؐ

دیدِ حق کے لئے ہو سُرمۂ چشم

کاش مل جائے خاکِ پائے رسُولؐ

تاجور اُن کے در کے منگتے ہیں

بادشاہِ جہاں، گدائے رسُولؐ

حق نے بخشی ہے عِشق کو مِعراج

کس سے پہنچی کسے قبائے رسُولؐ

ہے رسُولِ خُدا، خُدا کے لئے

اور ذاتِ خُدا برائے رسُولؐ

حق ہے خواجۂ میں، خواجۂ حق میں ہے

ہے عطائے خُدا، عطائے رسُولؐ

حق قبول اِلتجا کرے ساجدؔ

عمر بھر میں لکھوں ثنائے رسُولؐ