اُن کی یاد اُن کا خیال
1

مجھ پر نِگاہِ اُن کی برنگِ دگر ہے آج

وہ کیفیت کبھی نہ ہوئی جس قدر ہے آج

2

ہر اِک جمیل شے تو مِرا دِل ہے شِیفتہ

بے تاب اُن کی دید کو ذوقِ نظر ہے آج

3

جیسے الٹ دیا ہے انہوں نے نِقابِ رنج

دو چند یوں جو حُسن و جمال سحر ہے آج

4

اس چشمِ اِلتِفات کے ہیں زاویے کئی

کل تھی ادھر کرم کی نظر اور ادھر ہے آج

5

وہ فرد فرد اُن کی عطا کے ہیں سلسلے

کل جو گدائے راہ تھا وہ تاجور ہے آج

6

پہلے سے ہیں زیادہ ستارے نِگاہ میں

حیراں ہوں اس قدر مِری کیوں چشمِ تر ہے آج

7

ساؔجِد کھلا ہے راز بفیضِ شہِ رُسُل

میری نظر میں اور بھی حُسنِ بشر ہے آج