اُن کی یاد اُن کا خیال
1

یادِ اُن کی اثر ہے سینے میں

ہے مزہ خوب ایسے جینے میں

2

اسم ہے کب جُدا مسمّیٰ سے

ہے بہا ہے یہ در خزینے میں ⚠️

3

اسم کا نُور روح میں ساری

ہے چمک جس طرح نگینے میں

4

اسمِ اعظم ہے کائنات میں یوں

جیسے فانوسِ حُسن ⚠️ کے سینے میں

5

سیل و گرداب کا اُسے کیا ڈر

آن بیٹھا جو اس سفینے میں

6

عنبر و مُشک کا ہے سرچشمہ

بے مِثال آپ کے پسینے میں

7

چند برسوں سے ہے قیام پنجرے ⚠️

جاں ساؔجِد مِری مدینے میں