اُن کی یاد اُن کا خیال

جس نشست⚠️ ہو وہ چشمِ کرم، غم نہیں ہوتا

دِل تلخئیِ⚠️ حالات سے برہم نہیں ہوتا

سرمایۂ دِل و جان کا شفقت ہے نبیؐ کی

اُن سا کوئی مُونِس کوئی ہمدم نہیں ہوتا

ہے حُسنِ نبیؐ ذاتِ خُداوند کا پرتو⚠️

شعلہ کبھی اُس حُسن کا مدھم نہیں ہوتا

ہے خاک⚠️ مِرا ایسے شب و روز کا جب تک

رابطہ⚠️ اُن سے دِل و جان کا مُحکم نہیں ہوتا

کہتا ہوں قسم کھا کے میں یاد اُن کی ہے اِکسیر

کب دِل کے نِہاں زخم کا مرہم نہیں ہوتا

اِحسان فراموش بنے، اُن کو بھلا⚠️ دے

ہرگِز دِلِ مومن کا یہ عالَم نہیں ہوتا

ساجدؔ میری جاں نعت سے سَرشار ہے اکثر

وہ دِل نہیں جو نعت سے خرّم نہیں ہوتا