اُن کی یاد اُن کا خیال

وہی کلام فصاحت کی جان ہوتا ہے

جو اُن کی نعت کے شایانِ شان ہوتا ہے

کرمِ نبیؐ کا کراں تا کراں اُفق پہ اُفق

غموں کی دُھوپ میں وہ سائبان ہوتا ہے

جو اُن کی یاد میں گم ہے، نصیب میں اس کے

نئی زمین نیا آسمان ہوتا ہے

بڑا مزے میں ہے جو اُن کا نام لیوا ہے

غلامِ اُن کا سدا کامران ہوتا ہے

بُلند فکر ہے جس نے نبیؐ کو پہچانا

خموش لب وہ مَعارِف کی جان ہوتا ہے

اسے⚠️ نہ حال کا شکوہ نہ ہے غمِ فَردا

وہ جس پہ شاہِ رُسُلؐ مِہربان ہوتا ہے

ہے نعت گوئی بھی ساجدؔ خُدا کی خاص عطا

نیک⚠️ بخت ہے جو نعت خواں ہوتا ہے