اُن کی یاد اُن کا خیال
1

صَحرا کو لالہ زار بنائے ہوئے تو ہیں

دِل سے ہم اُن کی یاد لگائے ہوئے تو ہیں

2

آلامِ روزگار کا سمٹنے⚠️ لگا ہے دم

ہونٹوں پہ اُن کے نام کو لائے ہوئے تو ہیں

3

ہم پر ضرور باب⚠️ کھلے گا شہود کا

دِل میں خِیال اُن کا جمائے ہوئے تو ہیں

4

اب اور کوئی دِل میں سمائے یہ مشکل⚠️ ہے

ایمان ہم اُن کے حسن پہ لائے ہوئے تو ہیں

5

اُن کی نَوازِشوں سے سدا دِل ہے شادماں

منظَرِ سدا بہار کے چھائے ہوئے تو ہیں

6

کیا خوب اہلِ حق کے دِلوں میں ہے روشنی

چشمِ کرم کے گھر یہ بسائے ہوئے تو ہیں

7

ساؔجِد تِری مراد دِل و جاں بر آئے گی

اُن کے فقیر موج میں آئے ہوئے تو ہیں