← اُن کی یاد اُن کا خیال
صَحرا کو لالہ زار بنائے ہوئے تو ہیں
دِل سے ہم اُن کی یاد لگائے ہوئے تو ہیں
آلامِ روزگار کا سمٹنے⚠️ لگا ہے دم
ہونٹوں پہ اُن کے نام کو لائے ہوئے تو ہیں
ہم پر ضرور باب⚠️ کھلے گا شہود کا
دِل میں خِیال اُن کا جمائے ہوئے تو ہیں
اب اور کوئی دِل میں سمائے یہ مشکل⚠️ ہے
ایمان ہم اُن کے حسن پہ لائے ہوئے تو ہیں
اُن کی نَوازِشوں سے سدا دِل ہے شادماں
منظَرِ سدا بہار کے چھائے ہوئے تو ہیں
کیا خوب اہلِ حق کے دِلوں میں ہے روشنی
چشمِ کرم کے گھر یہ بسائے ہوئے تو ہیں
ساجدؔ تِری مراد دِل و جاں بر آئے گی
اُن کے فقیر موج میں آئے ہوئے تو ہیں