اُن کی یاد اُن کا خیال

ہے پیمانہ نہ پختخانہ مگر معمور رہتے ہیں ⚠️

بفیضانِ نظر ہم رات دِن مسرور رہتے ہیں

بڑی تَسکین سے یہ زِندگی اُن کی گزرتی ہے

محبت سے نبیؐ کی جن کے دِل معمور رہتے ہیں

باطِن روح کی پرواز جن کی لامَکاں تک ہے

لباسِ ظاہری میں وہ سدا مستور رہتے ہیں

چشمِ اِلتِفات اُن کو میسّر باریابی ہے

جہاں والوں سے ایسے لوگ اکثر دُور رہتے ہیں

معنوی جن کے جان و دِل ہوئے نُورِ نُبُوت سے

وہ شِرک و کُفر کی وادی میں مِثلِ نُور رہتے ہیں ⚠️

نبیؐ کی صورت زیبا سے ظاہر نُورِ مُطلِق ہے

جو اُس میں محو ہیں وہ ذات کے منظور رہتے ہیں

مِرے احباب کچھ صلّ علیٰ میں غرق ہیں ساجدؔ

کچھ ایسے ہیں تَصوُّر میں جو اُن کے حضور رہتے ہیں