اُن کی یاد اُن کا خیال

شہرِ بَطحا کا ہے پُر کیف سماں، شام و سحر

بام و در رائحتِ مُشکِ فِشاں، شام و سحر

ہے فقیروں کی بہت بھیڑ گلی میں اُن کی

اُن کے در کے ہیں گَدا تاجراں، شام و سحر

بے نَوا ہیں کی سُنی جاتی ہے فریاد وہاں

قافلے غم کے ہیں ماروں کے رواں شام و سحر

اِس درِ پاک پہ لیٹے ہیں زر و سیم و گُہر

عام عِرفان کی ہے جھلکیں کراں، شام و سحر

خنک دِل ہوتے ہیں سیراب درِ اَقُدس پر

کھلتی آنکھیں ہیں دِل و جاں کی وہاں، شام و سحر

ہے مجھے ذِکر کی توفیق بفیضانِ نبیؐ

ہے اسی ذِکر سے یہ راحَتِ جاں، شام و سحر

رونقِ بزم ہے یہ اُن کے کرم سے ساجدؔ

دِل شیدا ہے مِرا زمزمہ خواں شام و سحر