اُن کی یاد اُن کا خیال
1

"ہوگئی اُن سے محبت ہوگئی"

تھا جو افسانہ حقیقت ہوگئی

2

گیا پھر سے ہرا ویراں چَمن

غم زدہ دِل پر عِنایَت ہوگئی

3

یادِ اُن کی میرے دِل میں بس گئی

مجھ پہ مائل چشمِ رحمت ہوگئی

4

میرے دِل پر چھا گیا اُن کا خِیال

اب بھری محفِل میں خَلوت ہوگئی

5

بھولتا جاتا ہوں اپنے آپ کو

اور ہی اب میری حالت ہوگئی

6

جب سے ہوں مصروف اُن کے ذِکر میں

دِل کو رنج و غم سے فُرصت ہو گئی

7

وہ خیالوں میں ہیں ساؔجِد ہر گھڑی

اب رگِ جاں اُن کی مِدحت ہوگئی