اُن کی یاد اُن کا خیال
1

سرخوشی اس درجہ فوز و کامرانی اس قدر

ذِکر سے اُن کے ہے دِل میں شادمانی اس قدر

2

کون کرتا ہے بِجُز محبوبِ حق یوں شفقتیں

کون کرتا ہے کرم اور مہربانی اس قدر

3

بھیجے دِن ہو کہ رات اکثر درود اُن کے حضور

تاکہ ہو کافور دِل کی یہ گرانی اس قدر

4

حق ہو یا باطِل چھپائیں لاکھ ہم چھپتا نہیں

دِل کی کرتا ہے یہ چہرہ ترجمانی اس قدر

5

چشمِ نم، رُخ پر بہار اور لب پہ اُن کا نامِ پاک

ہے جُدا اہلِ محبت کی نشانی اس قدر

6

داغِ دھبّے معیشت کے سب کے سب دھل جائیں گے

موجزن ہے ہر طرف رحمت کا پانی اس قدر

7

میں نبیؐ کی نعت ساؔجِد خوب جی بھر کر لکھوں

چاہیے دُنیا نہ مجھ کو زِندگانی اس قدر