اُن کی یاد اُن کا خیال

لب پہ نام اُن کا مِرے ہر دم رہے

بے خُودی کا دِل میں اِک عالَم رہے

روز بھیجیں اُن کو سوغاتِ درود

دِل ہمارا شاد، جاں خُرّم رہے

ذِکرِ اُن کا ہر گھڑی سُنتے رہیں

دِل میں دم اور دم میں جب تک دم رہے

ہم رہیں شفقت کے سائے میں سدا

جان و دِل میں نُورِ حق پیہم رہے

رات دِن دِل میں رہے اُن کا خِیال

یادِ اُن کی دِل میں ایسے ہم رہے

نام سے اُن کے ہوئیں حل مُشکلیں

غم کے سب طوفان پَیکر تھم رہے

رات بھر سُنتے رہے ساجدؔ ثَنا

رات بھر سَرشار و سرخوش ہم رہے