اُن کی یاد اُن کا خیال

خُدا نے خَلق پر کھولا ہے یوں رحمت کی معدن کو

شِکایت ہے بیگانوں کو نہ شکوہ کوئی دشمن کو

نبیؐ کے نُور سے روشن ہیں خورشید و مہ و انجم

ملیں رعنائیاں اُن ہی کی رَعنائی سے گُلشن کو

کرم جب اُن کا ہوتا ہے طلب سے بڑھ کے ہوتا ہے

رکھیں پھیلا کے سائل خوب اپنے دِل کے دامَن کو

بفضلِ حق تعالیٰ دستِ رحمت ہے مِرے اُوپر

نہیں خطرہ کوئی برق و شرار کا میرے گُلشن کو

نبیؐ کا نام لیوا ہوں نبیؐ ہے راہبر میرا

جھکا سکتا نہیں زِنہَار باطِل میری گردن کو

وہ گھبراتا ہے اُن کا نام سُن کر خوف کھاتا ہے

حبیبِ حق کے رہ گیروں سے ڈر لگتا ہے رہزن کو

خُدا کے واسطے چھیڑو نبیؐ کا تذکرہ ساجدؔ

بہت مُدّت ہوئی ہوئے آنکھوں سے ساون کو ⚠️