اُن کی یاد اُن کا خیال

خُدا کے حُسن کا جب سامنے سراپا ہو

دِل و نِگاہ کی پھر اور کیا تمنا ہو

درود بھیج بنامِ نبیؐ کہ اُن پہ درود

غم و الَم کی دوا، درد کا مُداوا ہو

انہیؐ کے ذِکر سے ذاتِ احَد کی بات کھلے

بغیرِ اسم⚠️ مسیحا⚠️ کی جُستجو کیا ہو

خُدا کرے سفرِ سعادت مِرا نصیب بنے

تجلّی⚠️ میں اُن کی مِرا⚠️ صبح و شام دیکھا⚠️ ہو

کہیں ہو دِل میں سدا اُن کی یاد کی مَستی

تمام عمر مِرے سر میں اُن کا سودا ہو

تَصوُّر اُن کا دِل و جاں کی روشنی ہو مِری

خِیال اُن کا شبِ کرب کا اُجالا ہو

نَجات بخشی ہے ساجدؔ کو آپؐ نے غم سے

قسم خُدا کی بڑے غمگسار آقا ہو