← اُن کی یاد اُن کا خیال
1
ہماری سِمت⚠️ کہاں جام بھی نہیں آتا
وہ اور ہیں جنہیں پیغام بھی نہیں آتا
2
نبیؐ کی یاد کی مَستی بھی⚠️ نصیب نہیں
سُکونِ دِل کا اسے نام بھی نہیں آتا
3
نظر وہ رکھتے ہیں اِس ناتواں پہ اس درجہ
ادھر عَدُوّ میرا اِک گام بھی نہیں آتا
4
ہیں اُن کی آنکھیں ہی بے نُور، جو سے⚠️ کہتے ہیں
کہ اب تو جلوۂ سرِ بام بھی نہیں آتا
5
درود جس کا وظیفہ ہے کامران ہے وہ
کبھی وہ غم کے پئے⚠️ دام بھی نہیں آتا
6
سِوائے ذِکر کے گھلتی نہیں گِرہ دِل کی
سِوائے ذِکر کے آرام بھی نہیں آتا
7
قلم رواں میرا ساؔجِد رہے ثَنا کے لیے
مجھے تو اور کوئی کام بھی نہیں آتا