← اُن کی یاد اُن کا خیال
ہماری سِمت⚠️ کہاں جام بھی نہیں آتا
وہ اور ہیں جنہیں پیغام بھی نہیں آتا
نبیؐ کی یاد کی مَستی بھی⚠️ نصیب نہیں
سُکونِ دِل کا اسے نام بھی نہیں آتا
نظر وہ رکھتے ہیں اِس ناتواں پہ اس درجہ
ادھر عَدُوّ میرا اِک گام بھی نہیں آتا
ہیں اُن کی آنکھیں ہی بے نُور، جو سے⚠️ کہتے ہیں
کہ اب تو جلوۂ سرِ بام بھی نہیں آتا
درود جس کا وظیفہ ہے کامران ہے وہ
کبھی وہ غم کے پئے⚠️ دام بھی نہیں آتا
سِوائے ذِکر کے گھلتی نہیں گِرہ دِل کی
سِوائے ذِکر کے آرام بھی نہیں آتا
قلم رواں میرا ساجدؔ رہے ثَنا کے لیے
مجھے تو اور کوئی کام بھی نہیں آتا