← اُن کی یاد اُن کا خیال
1
احَد کا جب مجھے کہسار نظر آتا ہے
سنگِ اُلفت میں گرفتار نظر آتا ہے
2
شادماں بیٹھا ہے ہر کوئی نبیؐ کے در پر
ہر کوئی شوق سے سَرشار نظر آتا ہے
3
خود بخود بگڑے ہوئے کام سنور جاتے ہیں
اب نصیب اپنا بھی بیدار نظر آتا ہے
4
اس گلی میں سے دیکھیں، ہے وہی اُن پہ فِدا
ہر کوئی اُن کا خریدار نظر آتا ہے
5
اُن کے ہیں نُور کے سائے یہ جہاں کے جَلوے
چاند بھی پرتوِ رُخسار نظر آتا ہے
6
روشنی ہے مِری آنکھوں کی فُرُوزَاں تر کیسی
روضۂ شاہ کا مینار نظر آتا ہے
7
مُلتَفِت جب ہو نظرِ اُن کے کرم کی ساؔجِد
کب کوئی راستے دُشوار نظر آتا ہے